مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ٹی وی چینل کان 11 نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خطے کے بعض ممالک، بشمول کویت، پر حملوں کے بعد کویت اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
کان 11 نے کویت کے ایک سابق وزیر کے حوالے سے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ خلیج فارس کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے اور ان ممالک کی سلامتی و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون سب کے مفاد میں ہے۔
کویتی سابق وزیر نے مزید کہا کہ خاص طور پر خلیج فارس کے ممالک پر ایران کے مسلسل حملوں اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ اسرائیل ایران پر حملے کر رہا ہے اور اس کی ان فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر رہا ہے جو اس کے پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال کی جاسکتی ہیں، اب تذبذب کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
یہ رپورٹ اسرائیلی سفیر برائے متحدہ عرب امارات یوسی شیلی کے حالیہ بیان کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں اسرائیلی ریڈیو کان ریشت بت سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ایک اور ملک کے ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی توقع ہے۔
شیلی نے کہا تھا کہ ممکن ہے کویت اگلا ملک ہو۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کی افواج کے کمانڈروں کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس میں شرکت کی۔
امریکی خبر رساں ادارے آکسیوس اور اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اس اجلاس میں ایران کے ساتھ جنگ اور یمن کی انصار اللہ تحریک سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
آپ کا تبصرہ